خالدہ چانڈیو قتل کیس، کاری قرار دیکر قتل کا فتویٰ دینے والا وڈیرہ گرفتار


خیرپور ( آن لائن ) کاری’ قرار دے 20 سالہ لڑکی خالدہ چانڈیو کے قتل کیس میں مرکزی ملزمان سمیت 18 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے ضلع خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی (بٹو چانڈیو) میں پسند کی شادی کی خواہش پر 20سالہ لڑکی خالدہ چانڈیو کو ’کاری‘ قرار دیکر ہجوم کے سامنے قتل کرنے کے معاملے میں پولیس نے بڑی پیش رفت کی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مقتولہ خالدہ چانڈیو کو ایک وڈیرے نے ‘کاری’ قرار دیکر قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے بعد ہجوم کی موجودگی میں لڑکی کے ماما قیصر چانڈیو اور نانا ولی محمد نے فائرنگ کر کے اسے بیدردی سے قتل کر دیا۔ملزمان نے قتل کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی، جس پر وزیرِ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت نوٹس لیا۔ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی کے مطابق، پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے قتل میں ملوث مقتولہ کے ماما اور نانا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ویڈیو کی مدد سے ہجوم میں موجود 18 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سیاہ کاری کے الزام میں خاتون کا بہیمانہ قتل، ان گنت سوالات
18 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
سکھر (بیورو رپورٹ) خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی کے گاؤں بٹو چانڈیو میں جرگہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیاہ کاری کے الزام میں خاتون خالدہ عرف روبینہ کے بہیمانہ و سفاکانہ قتل نے ان گنت سوالات کو جنم دیا ہے۔ جبر و جہل کی دلدل اور ظلم و ستم کی چکی میں پستی بنت حوا کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ کب تھمے گا؟ وڈیرانہ، جاگیردارانہ و جاہلانہ نظام کا خاتمہ کب ہوگا؟ آئین و قانون کی بالا دستی کا پھریرا لہرائے گا یا پھر سلطنت کے اندر سلطنت کی مانند جرگہ سسٹم کے فیصلے کشت و خون کا بازار گرم رکھیں گے؟ پانچ ہزار سالہ قدیمی تہذیب کی امانت دار سندھ دھرتی شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، لال شہباز قلندر، بیدل بیکس، وتایو فقیر ودیگر صوفی بزرگوں، اولیاء کرام و شعراء کے علم و عمل و کردار کے ذریعے امن و محبت آشتی بھائی چارے کی لازوال داستانیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

=================

سندھ، تین ماہ کے دوران کاروکاری قرار دیکر 27 خواتین سمیت 36 افراد قتل
18 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی( ثاقب صغیر )سندھ میں رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران کاروکاری قرار دے کر 27خواتین سمیت36افراد کو قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں کاروکاری کے واقعات تھمنے میں نہیں آ رہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔رواں برس کے تین ماہ کے دوران سندھ میں کاروکاری قرار دے کر 27 خواتین سمیت 36 افراد کو قتل کر دیا گیا ہے۔کاروکاری قرار دے کر قتل کرنے والے ملزمان میں 18 ملزمان مقتولین کے شوہر، والد اور بھائی ، 11 دیگر رشتہ دار جبکہ 3 پڑوسی اور دوست شامل ہیں جنہوں نے مقتولین کو قتل کیا ۔ کاروکاری قرار دے کر قتل کرنے کے واقعات میں مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں ایک کلاشنکوف ، 3 شارٹ گن، 16 ریوالور /پستول اور 11 دیگر اقسام کے ہتھیار شامل ہیں۔ کراچی رینج میں کاروکاری کے 2، سکھر رینج میں 8، لاڑکانہ رینج میں 14، حیدرآباد رینج میں 3، میرپور خاص رینج میں ایک اور شہید بے نظیر آباد رینج میں کاروکاری کے 5کیسز رپورٹ ہوئے ۔واضح رہے کہ سال 2025 میں اس مدت میں سندھ بھر میں کاروکاری کے 41 کیسز میں 38 خواتین سمیت 48 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔گزشتہ 4 برسوں کے دوران 595 افراد کو کاروکاری قرار دے کر قتل کر دیا گیا،قتل ہونے والوں میں 466 خواتین اور 129 مرد شامل ہیں۔
===============

میرپورخاص:میڈیکل طالبہ کی خودکشی ، انکوائری ٹیم یونیورسٹی پہنچ گئی
18 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
میرپورخاص(نامہ نگار/سلیم آزاد)میڈیکل طالبہ کی خودکشی ، انکوائری ٹیم یونیورسٹی پہنچ گئی،ٹیم نے متوفیہ کے ہم جماعت طلبہ اور دیگر افراد سےمختلف امورسے متعلق معلومات لیں،ذرائع ،تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کی نجی یونیورسٹی کی میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کومبینہ طورپرہراساں اور خودکشی پرمجبورکرنے کامشہورکیس، واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لئےایس ایس پی ٹیکنیکل اینڈفرانزک سی ٹی ڈی کراچی سہائی عزیزتالپور کی سربراہی میں قائم کردہ اعلی سطحی پانچ رکنی انکوائری ٹیم جمعہ کونجی یونیورسٹی پہنچ گئی،ٹیم کادوگھنٹے میں یونیورسٹی کا دومرتبہ دورہ، اطلاعات کے مطابق ٹیم نے متوفیہ کے ہم جماعت طلبہ وطالبات کے علاوہ دیگر افراد سے مختلف امورسے متعلق معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر ٹیم کی سربراہ ایس ایس پی سہائی عزیز تالپور نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کیس انتہاہی حساس ہے،ٹیم ہرزاویے سے تفتیش کررہی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیز حاصل کرلی گئی ہیں،متوفیہ کا موبائل فون بھی فرانزک کے لئے بھجوا دیا گیا ہے، تاکہ شواہد اکھٹے کیئے جاسکیں،ٹیم کی پوری کوشش سچائی اور انصاف تک پہنچنا ہے اس میں ملوث تمام کرداروں کو انشاءاللہ انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے ۔واضع رہے رواں ماہ 8اپریل کو میرپورخاص کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن اسکیم نمبر2نجی یونیورسٹی کی تھرڈ ایئر کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے اپنے گھرمیں مبینہ طورپرخودکو گولی مارکرخودکشی کرلی تھی جس کا کالج کے پرنسپل ان کی پروفیسر اہیلہ،فارماسسٹ اور دوطالب علموں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
===================

پڈعیدن13:سالہ لڑکی سے زیادتی،مرکزی ملزم سمیت 2ملزمان گرفتار
18 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
پڈعیدن (نامہ گار )دریا خان مری میں دو ملزمان نے 13سالہ لڑکی سے زیادتی کردی جس کا مقدم درج کرلیاگیا۔مرکزی ملزم سمیت دو ملزمان گرفتار مزید ملزم کی گرفتاری کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔متاثر لڑکی کو میڈیکل چیک اپ کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے لیڈی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ متاثر لڑکی کےاجزالیبارٹری منتقل کئےجائیں گے جس کے بعد پتہ چلے گا کہ زیادتی ہوئی ہے یا نہیں ہے،رپورٹ آنے کے بعد حقائق معلوم ہوسکیں گے۔مرکزی ملزم کی گرفتاری قانون کی عملداری کی واضح مثال ہے ۔وزیر داخلہ سندھ نے کہنا ہےکہ دوسرے ملزم کی جلد گرفتاری کے لیے جاری کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔ضیاءالحسن لنجار نےہدایت کرتے ہوئے کہا ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے ۔ضیاءالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور سخت قانونی کارروائی ہوگی۔پولیس ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی قابل تعریف ہے۔
====================

منگیتر کوبلیک میل کرنے کے مقدمے کے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
18 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (محمد ندیم ،اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ نے منگیتر کی مبینہ قابلِ اعتراض ویڈیو بنانے اور منگنی ختم ہونے کے بعد اسے بلیک میل کرنے کے مقدمے میں ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے تفتیشی افسر نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ کے سامنے پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے 28 اپریل تک جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔تاہم مجسٹریٹ نے ملزم کو عدالتی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو مقررہ مدت میں عبوری چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ کی ملزم کے ساتھ منگنی ہوئی تھی اور دونوں واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے رابطے میں تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
54 − 51 =