امریکہ ایران جنگ۔ مکالمہ سے ہی بات بنے گی


تحریر: سہیل دانش
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 15 راؤنڈ کے اِس مقابلے کے 10ویں راؤنڈ میں دونوں حریف نہ صرف تھک چکے ہیں بلکہ ہانپ رہے ہیں وہ مذاکرات کی میز سجانے کے آرزو مند بھی ہیں اور ایک دوسرے کو دھمکانے سے باز بھی نہیں آرہے۔ امن کی خواہشوں اور جنگ کی دھمکیوں کے بیچوں بیچ آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے۔ جنگ کے بادل چھٹے نہیں لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس وقت جنگ نہیں ہورہی۔ کبھی اُمید بندھتی ہے اور کبھی ٹوٹ جاتی ہے۔ لڑکھڑاتا اور زخموں سے لہولہان ایران دنیا کی واحد سپرپاور کی مہیب فوجی طاقت کے آگے استقامت سے کھڑا اُس کے وار سہہ رہا ہے۔ امریکی جہاں سمندری ناکہ بندی کو عسکری سے زیادہ معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں وہیں ٹرمپ ہر طریقے سے ایران کو ٹریپ کرنے کی کوشش کررہے ہیں صدر امریکہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ معاشی اعتبار سے امریکہ کو بہت مہنگی پڑرہی ہے، ایرانی سمجھتے ہیں کہ جہاں تک فاصلہ طے ہوچکا تھا مکالمہ وہیں سے شروع کیا جائے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے شکوے شکایتوں کے درمیان فی الحال میزائلوں اور ڈرونز کی گھن گرج رُکی ہوئی ہے لیکن خطرات بدستور منڈلارہے ہیں اِس وقت ہتھیاروں کی جنگ سے زیادہ اعصاب کی جنگ جاری ہے۔ فضا میں خطرات منڈلارہے ہیں اور اسرائیل چھپتے چھپاتے امن معاہدہ روکنے کے لئے شرارت کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈرہا ہے۔ امریکی بڑی ہوشیاری سے اُسے ہاتھ کے اشارے سے روک بھی رہے ہیں اور آنکھ مارکر اُسے اُکسا بھی رہے ہیں۔ دنیا ایک ایسے کرائسس میں پھنستی نظر آرہی ہے جس کا سامنا اُس نے Covid-19 میں کیا تھا نہ ایرانی ٹرمپ کی نیت پر بھروسہ کررہے ہیں اور ٹرمپ بڑی چالاکی سے ایرانیوں کو خوش گمانیوں کے دلدل میں پھنسانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا میں سمندروں کے سینے پر رواں دواں ہزاروں بحری جہازوں کی غیر یقینوں اور خطرات نے ایک ایسے کرائسس کو جنم دیا ہے جس نے نہ صرف پوری عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بلکہ ایک ایسا تلاطم برپا کردیا ہے جس نے ایران امریکی جنگ کو عالمی معیشت کی تباہ کاری کا لبادہ پہنادیا ہے۔ امریکی ہر قیمت پر ایرانیوں کو تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور دنیا سفارتکاری میں تیزوتند لہجوں کی بازگشت سے خوفزدہ نظر آرہی ہے ایک ایسی دنیا جس کے چہرے پر ماضی کا سکون اُجڑتے وجود کے ساتھ ہولناک تباہ کاریوں کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ دنیا خوفزدہ ہے کہ کہیں ایران اور امریکہ کی ضد، غرور اور تکبر پوری دنیا کو نہ لے بیٹھے، سیدھی سچی بات یہ ہے جو کسی کی سمجھ نہیں آرہی کہ امریکہ نہیں جیت سکے گا لیکن ایران تباہ ہوجائے گا۔ یاد رکھیں بات مکالمے سے ہی بنے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
46 − 44 =