
اعتصام الحق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں ۔یہ دورہ محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ عالمی معیشت، جغرافیائی سیاست اور طاقت کے توازن کے تناظر میں ایک ایسا دورہ ہے جسے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ اس دورے کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کے اثرات وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے معاشی حقیقت کو دیکھنا ضروری ہے۔ امریکہ اور چین دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق 2025 تک امریکہ کی معیشت تقریباً 28 ٹریلین ڈالر جبکہ چین کی معیشت 18 سے 19 ٹریلین ڈالر کے درمیان ہے۔ لیکن خریداری کی قوت کے لحاظ سے چین پہلے ہی امریکہ سے آگے نکل چکا ہے، جو اس کی صنعتی اور پیداواری طاقت کا واضح ثبوت ہے۔
دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار اس تعلق کی گہرائی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2024 میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 575 سے 600 ارب ڈالر کے درمیان رہا، جس میں چین کو واضح برتری حاصل ہے۔ امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ اب بھی 250 سے 300 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس پر ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کیا اور اربوں ڈالر کی درآمدات پر ٹیرف عائد کیے۔
ٹرمپ کے اس دورے کو اسی پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔ اگر وہ دوبارہ چین کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں تو ایک اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا وہ ٹیرف پالیسی کو نرم کریں گے یا مزید سخت؟ اگر ٹیرف میں 10 سے 25 فیصد تک کمی کی جاتی ہے تو اس کا فوری اثر عالمی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور آٹو پارٹس کی قیمتوں میں 5 سے 12 فیصد تک کمی سے عالمی مہنگائی پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کا شعبہ اس دورے کا سب سے حساس پہلو ہے۔ امریکہ نے گزشتہ برسوں میں چین کی کمپنیوں، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر انڈسٹری، پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ چین کی چِپ امپورٹس 2023 میں تقریباً 350 ارب ڈالر تھیں، جو اس کی سب سے بڑی درآمدی کیٹیگری ہے۔ اگر اس دورے میں ٹیکنالوجی تعاون یا پابندیوں میں نرمی کی کوئی صورت نکلتی ہے تو یہ عالمی ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
جغرافیائی سیاست کے حوالے سے بھی یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت 150 سے زائد ممالک میں 1 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اپنی انڈو پیسیفک حکمت عملی کے ذریعے چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کا دورہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ آیا امریکہ محاذ آرائی کو ترجیح دے گا یا محدود تعاون کی پالیسی اپنائے گا۔
توانائی اور ماحولیاتی شعبہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ دونوں ممالک دنیا کی دو بڑی معیشتیں ہیں اس لیے ان کی ماحول کو بہتر رکھنے اور چیلنجز سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے ۔ اگر دونوں ممالک ماحولیاتی پالیسی پر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوتے ہیں تو اس کا اثر عالمی موسمیاتی اہداف پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر پیرس معاہدے کے تناظر میں۔
مالیاتی منڈیوں کے ردعمل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ-چین تعلقات میں بہتری آنے پر دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس پر بہتر اثر پڑتا ہے ، جبکہ کشیدگی کی صورت میں یہی مارکیٹس تیزی سے نیچے آتی ہیں۔ اسی طرح یوآن اور ڈالر کے درمیان شرح تبادلہ بھی ان تعلقات سے متاثر ہوتی ہے، جہاں معمولی سفارتی پیش رفت بھی کرنسی مارکیٹ میں 1 سے 2 فیصد کی تبدیلی لا سکتی ہے۔
ایک گہرا امکان یہ بھی ہے کہ دنیا بتدریج دو معاشی بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ امریکہ، یورپ اور اس کے اتحادی ایک طرف، جبکہ چین، روس اور گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک دوسری طرف کھڑے ہیں۔ اس صورت میں عالمی تجارت کا ڈھانچہ تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی دھیان میں رکھنا ہو گا کہ ایران جنگ جیسے بڑے عالمی تنازعے میں اب یہ بلاکس اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں اور امریکہ بظاہر خود کو ان بلاکس سے الگ بھی کر چکا ہے ۔ لیکن گہرے مشاہدے کے ساتھ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ دورہ کسی ایک نتیجے تک محدود نہیں ہوگا۔ یہ بیک وقت کئی سمتوں میں اثر ڈالے گا جن میں معیشت، سیاست، ٹیکنالوجی اور عالمی طاقت کا توازن شامل ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس ملاقات کے بعد پالیسیاں کس سمت میں جاتی ہیں۔
اگر عملی اقدامات سامنے آتے ہیں ،مثلاً ٹیرف میں کمی، ٹیکنالوجی تعاون، یا مشترکہ ماحولیاتی اقدامات ،تو یہ دورہ عالمی استحکام کی طرف ایک قدم ہوگا۔ لیکن اگر یہ صرف بیانات اور علامتی سفارتکاری تک محدود رہا تو دنیا کو وہی غیر یقینی صورتحال درپیش رہے گی جو گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے۔
بالآخر، اس دورے کی اصل اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آیا یہ امریکہ اور چین کے تعلقات کو مسابقت سے تعاون کی طرف لے جاتا ہے، یا دنیا کو مزید تقسیم کی طرف دھکیلتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی نظام کی سمت کا تعین کرے گا۔

















