
تحریر: سہیل دانش
ایک کچی بستی سے پوش علاقوں تک رسائی حاصل کرنے والی ڈرگ کوئین اور کال گرل سے ڈان کا روپ دھارنے والی انمول عرف پنکی درحقیقت ہمارے آلودہ سسٹم کا ایک مہرہ ہے بس ایک کردار کا نام ہے۔ آپ اِس میں جتنا رنگ بھرنا چاہیں بھرلیں۔ سننے اور پڑھنے والے کے لئے آپ اِس میں جتنا چٹ پٹا مصالحہ اور چسکہ ڈالنا چاہیں ڈال لیں۔ لیکن یہ ہمارے پورے انتظامی نظام کے زوال کی کہانی ہے۔ انمول عرف پنکی کوئی ایک کردار نہیں۔ ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں کردار اور اُن کے طاقتور اور بااختیار پروموٹرز دندناتے پھررہے ہیں۔ انمول کوکین بنانے کی لیبارٹری چلاتی تھی۔ اُس کے اپنے برانڈز تھے۔ وہ انواع اقسام کے نشہ آور مشروبات تیار کرتی تھی۔ نوجوان نسل کے لئے اُس کے پاس ڈیمانڈ اور سپلائی کا پورا نظام موجود تھا۔ سچ پوچھیں تو یہ ایک مافیا کی کارندہ ہے۔ بس وہ یہ جان گئی تھی کہ ہمارا لالچ و طمع کا مارا انتظامی اور قانونی نظام اور اِس میں موجود بااختیار لوگ اُن جیسے مافیاز کے کارندوں اور سرغناؤں کی جیب پر نظر رکھتے ہیں اور اگر اُن کی مٹھیاں گرم کردو تو وہ رُکاوٹ نہیں پروموٹر بن جاتے ہیں، ڈرگ مافیا اُسی طرح آپریٹ کرتی ہے جس طرح اربوں روپے قرض لینے والے نادہندہ انتطامیہ کی ملی بھگت سے اُسے معاف کراتے ہیں، لینڈ مافیا زمینوں پر ایسے ہی قبضے نہیں کرتی بلکہ تمام متعلقہ سرکاری ادارے اُن کی سرپرستی کرتے ہیں۔ حکومت کے یہ تمام ادارے پارٹ آف سلوشن نہیں ہیں بلکہ پارٹ آف پرابلم ہیں، یہ ہماری انتظامی نااہلی اور لالچ و طمع ہی ہے جس نے ہماری اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو جلاکر راکھ کردیا ہے، یہ مافیاز ہماری سوسائٹی کو وائرس کی طرح چاٹ گئی ہیں جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یہ معاشرتی ٹریجڈی ہے۔ یہ سوچنے کی گھڑی ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں، یہ درحقیقت ہمارے پورے سسٹم کا زوال ہے۔ اِس میں ہم سب ملوث ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اِس ڈرگ اور اسلحہ میں کتنے بڑے لوگ ملوث رہے ہیں جو صاحب اختیار بھی تھے اور ہیں اور صاحب اقتدار بھی ہم خواہ مخواہ پنکی کا رونا رورہے ہیں۔ وہ دُرست کہتی ہے کہ روک سکو تو روک لو آپ اور ہم سب دیکھیں گے وہ بھی اُسی طرح سُرخرو ہوکر جلد باہر نکل آئے گی جس طرح ایان علی تمام رُکاوٹوں کو روندتی ہوئی پورے سسٹم کا منہ چڑاتے باہر نکل آئی تھی۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی شکلیں آئینے میں دیکھیں اور اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ ہم کون لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔

















