*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس* *آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاق کو دفاعی ضروریات کےلیے فنڈز دیے، وزیراعلیٰ سندھ*

*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس*

*آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاق کو دفاعی ضروریات کےلیے فنڈز دیے، وزیراعلیٰ سندھ*

*سندھ کا مجموعی مالی خسارہ 300 ارب روپے ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ*

*گذشتہ سال ریکارڈ پی ایس ڈی پی دیا تاہم اس سال کوئی نئی اسکیم نہیں، وزیراعلیٰ سندھ*

*کیٹی بندر پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پورٹ بنائیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قیام پر کام شروع کردیا گیا ، وزیراعلیٰ سندھ*

*گرین انرجی ڈیٹا سنٹر قائم کرکے بین الاقوامی کمپنیوں کو بجلی بیچیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*متوسط طبقے کو سولر سسٹم لگانے کےلیے آسان شرائط پر قرضے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ*

*سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے، مراد علی شاہ*

*پانی کی قلت پر تشویش ہے، وفاقی حکومت کے ساتھ مسئلہ اٹھایا ہے، وزیراعلیٰ سندھ*

*کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک جولائی کے اختتام تک بحال کر دی جائے گی، وزیراعلیٰ*


کراچی (18 جون): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال27-2026 کے لیے 3.652 کھرب روپے کے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دارانہ مالیاتی دستاویز قرار دیا ہے، جو وفاقی محصولات میں نمایاں کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود تیار کی گئی۔

سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے نہ صرف بجٹ کی تفصیلات بیان کیں بلکہ عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ایک طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی بھی پیش کی۔

*قومی دفاع کے لیے سندھ کا مالی تعاون*

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے قومی دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق آئین میں موجود اس شق پر پہلی مرتبہ عمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آئین میں یہ شق شامل کی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبوں نے اپنی مالی مشکلات کے باوجود وفاق کی معاونت پر اتفاق کیا ہے۔

*وفاقی محصولات میں 441 ارب روپے کی کمی*

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مئی 2026 تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 1.644 کھرب روپے موصول ہوئے، جو تخمینوں کے مقابلے میں 441 ارب روپے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک مزید 200 ارب روپے موصول ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کے باوجود تقریباً 250 ارب روپے کا خلا برقرار رہے گا۔

مراد علی شاہ کے مطابق صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 676 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن وصولیاں تقریباً 624 ارب روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، جس سے 52 ارب روپے کی کمی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی محصولات میں کمی کو ملا کر مجموعی مالی خسارہ تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔

*ترقیاتی پروگرام برقرار رکھنے کا دعویٰ*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ سال ایک ہزار 18 ارب روپے کے ریکارڈ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں سے 930 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران سندھ کو وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 2.263 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کا تخمینہ 456 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسائز ریونیو ہدف میں کمی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے کی اپنی آمدن کا تخمینہ 3.038 کھرب روپے ہے جبکہ وفاقی گرانٹس، غیر ملکی معاونت اور قرضوں کو شامل کرنے کے بعد مجموعی وصولیاں 3.525 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی۔

*اخراجات، تنخواہیں اور دفاعی گرانٹ*

مراد علی شاہ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 2.560 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں 260 ارب روپے کی وہ رقم بھی شامل ہے جو سندھ حکومت قومی دفاعی مقاصد کے لیے وفاقی حکومت کو آئینی گرانٹ کے طور پر فراہم کرے گی۔ اس رقم کو نکال دیا جائے تو صوبے کے انتظامی اخراجات تقریباً 2.3 کھرب روپے بنتے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور متعلقہ اخراجات کے لیے 1.264 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2025 میں دیے گئے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

*جامعات، مقامی حکومتوں اور قرضوں کے لیے فنڈز*

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری جامعات کو 48 ارب روپے دیے جائیں گے۔ اسپتالوں، جامعات اور دیگر خودمختار اداروں سمیت مختلف اداروں کو مجموعی طور پر 686 ارب روپے گرانٹس کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 54.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

*کفایت شعاری اور ترقیاتی بجٹ میں کمی*

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات کو موجودہ مالی سال کے 61.87 ارب روپے سے کم کر کے 36 ارب روپے کر دیا ہے۔ وسائل کی کمی کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام کو گزشتہ سال کے ایک ہزار 18 ارب روپے سے کم کر کے 720 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاہم وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت نے نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ضلعی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 15 ارب روپے جبکہ پی پی پی منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

*کیٹی بندر پورٹ منصوبہ*

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری، نے حکومت کو چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے اور دور رس اثرات رکھنے والے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں کیٹی بندر گہرے سمندر کی بندرگاہ منصوبہ زیر غور ہے۔

ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اس منصوبے پر چینی شراکت داروں سے بات چیت کر چکے ہیں جبکہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور کمپنیوں سے مشاورت بھی شروع ہو چکی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بندرگاہ کو عوامی و نجی شراکت داری کے تحت تعمیر کیا جائے گا اور وفاقی حکومت کو بھی اس منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی قیادت کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ سندھ اور پاکستان کی بحری معیشت کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہوگا۔

*سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر*

وزیراعلیٰ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے اور تین ممکنہ مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی موجودہ مدت مکمل ہونے سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں ہوگی بلکہ تمام ضروری سہولیات، آلات، ٹیکنالوجی اور رابطہ کاری سے آراستہ ایک جدید مالیاتی مرکز ہوگا۔

*گرین انرجی ڈیٹا سینٹر*

مراد علی شاہ نے ایک اور بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گرین انرجی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تھر کے ترقیاتی ماڈل سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے پاس شمسی توانائی کے وافر وسائل موجود ہیں، لیکن وفاقی حکومت صوبے کی اضافی بجلی خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی۔ اسی لیے حکومت قابل تجدید توانائی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کو فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کو گرین ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کا اہم مرکز بنا سکتا ہے۔

*سولر توانائی اور زرعی اصلاحات*

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت غریب ترین خاندانوں میں مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کر رہی ہے جبکہ متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر شمسی نظام فراہم کرنے کی اسکیم بھی تیار کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ سندھ بینک اور محکمہ توانائی سندھ مشترکہ طور پر تیار کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے زرعی اجتماعی نظام سے متعلق قانون سازی کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت چھوٹے کسان اپنی زمینیں یکجا کر کے بڑے قرضوں، جدید آبپاشی نظام اور مشینی زراعت کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق سندھ کے 93 فیصد کسانوں کے پاس 25 ایکڑ سے کم زمین ہے، جس کی وجہ سے وہ روایتی زرعی مالیاتی پروگراموں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

*پی پی پی ماڈل کو عالمی پذیرائی*

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوامی و نجی شراکت داری منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور دیگر صوبے بھی اس ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے مائی بختاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دریائے سندھ پر بڑے پلوں اور مینگرووز بحالی و کاربن کریڈٹ پروگراموں کو کامیاب منصوبوں کی مثال قرار دیا۔ان کے مطابق وفاقی حکام نے حال ہی میں تجویز دی ہے کہ دیگر صوبوں کو سندھ کے پی پی پی ماڈل پر بریفنگ دی جائے۔

*پانی کی قلت پر شدید تشویش*

وزیراعلیٰ سندھ نے پانی کی شدید قلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس وقت 30 فیصد جبکہ پنجاب کو 11 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال سندھ کے کسانوں کے لیے انتہائی غیر منصفانہ ہے۔مراد علی شاہ نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارہ زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کر رہا۔ انہوں نے وفاقی حکام اور میڈیا سے بھی اس مسئلے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

*انفرااسٹرکچر، گورننس اور مستقبل کا لائحہ عمل*

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک جولائی کے اختتام تک بحال کر دی جائے گی۔ انہوں نے منصوبے میں تاخیر کی وجہ ٹھیکیدار کی ناقص کارکردگی کو قرار دیا اور کہا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو ذمہ داری ملنے کے بعد کام کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے سکھر بیراج کی بحالی کا بھی ذکر کیا جہاں 44 دروازوں کی تبدیلی اور جدید کاری مکمل کی جا چکی ہے، جس سے بیراج کی عمر میں تقریباً 30 سال اضافہ ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بے ضابطگیوں پر معاہدے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور ذمہ دار افراد سے رقوم بھی وصول کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند خراب عناصر کو پورے نظام کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

*سیاسی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں مسترد*

پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے سیاسی تبدیلیوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے، قابل تجدید توانائی کے اقدامات اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی آنے والے برسوں میں سندھ کی معیشت کے لیے مثبت نتائج لائے گی۔

عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
62 + = 71