ریاستی ادارے کی ایک اور بڑی اور فیصلہ کن کارروائی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں اربوں روپے کی کرپشن کا ہولناک انکشاف سامنے آ گیا۔

میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
ریاستی ادارے کی ایک اور بڑی اور فیصلہ کن کارروائی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں اربوں روپے کی کرپشن کا ہولناک انکشاف سامنے آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کے نام پر غریب، بیوہ، یتیم اور نادار خواتین کو دی جانے والی امدادی رقم میں منظم طریقے سے کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث فرنچائز مالکان اور ڈیوائس ہولڈرز کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر لیا گیا ہے تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس کرپشن نیٹ ورک میں صرف فرنچائزز ہی نہیں بلکہ بی آئی ایس پی افسران، پولیس اہلکار، اسپیشل برانچ، سول وفاقی تحقیقاتی ادارہ، صحافی اور ایجنٹس بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے میرپورخاص پولیس نے جیز (Jazz) فرنچائز کے مالک سہیل ملک کو گرفتار کیا ہے جس نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بتایا کہ بی آئی ایس پی سسٹم جیز (Jazz) کمپنی چلاتی ہے اور کمپنی نے فرنچائز پہ اپنا ایک نمائندہ (ٹی ایس ایس) مقرر کیا ہوا ہے اس کا نام نوازش علی میمن ہے جو کہ بی آئی ایس پی افسران، جیز فرنچائز اور ڈیوائس ہولڈرز کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے اور کہا کہ ہماری فرنچائز کے پاس 35 ڈیوائسز ہیں جو کہ رٹیلرز چلاتے ہیں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ہر بینیفیشری سے 5 سے 8 ہزار کی کٹوتی کرتے ہیں اور فرنچائز مالک خود اور نوازش علی میمن ہر ڈیوائس والے سے 400 سے 500 روپے فی بینفشری کے حساب سے لیتے ہیں جس میں 60 فیصد فرنچائز مالک سہیل ملک خود رکھتا ہے اور 40 فیصد انکا ساتھی نوازش علی میمن لیتا ہے۔ جبکہ بی آئی ایس پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بھانبھن ہر ڈیوائس ہولڈر سے 2 سے 4 لاکھ روپے، سول وفاقی تحقیاتی ادارے کے اہلکار 60 ہزار روپے فی ڈیوائس، حد کی پولیس والے 50 ہزار روپے فی ڈیوائس اور اسپیشل برانچ والے 60 ہزار روپے فی ڈیوائس ہولڈر لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اذلان کنبوہ ولد عبدالرشید کے پاس 7 ڈیوائسز ہیں جس میں 3 اذلان کنبوہ کی ہیں 4 انکے دوستوں کی ہے اور ایک سہیل ملک کی خود کی ہے جس کی رقم وہ خود وصول کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوازش میمن کی 2 ڈیوائسز ہیں ایک سمیر اور ایک طارق آرائیں ڈگری والا چلاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈگری اور میرواھ میں 14 سے 16 ڈیوائسز ہیں جس کو طارق آرائیں کنٹرول کرتا ہے اور اسکی ریکوری لین دین معاملات وہ خود کرتا ہے۔ انہون نے بتایا کہ قربان خاصخیلی کے پاس 2 ڈیوائسز ہیں ایک میرپورخاص ٹول اور سلطان آباد میں چلاتا ہے ، شہزاد لغاری کے پاس 2 ڈیوائسز ہیں جو ٹنڈو الہیار کے علائقے مسن میں چلاتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فرنچائز کو کمپنی کی طرف سے 22 سو سے 25 سو سم ایکٹیویشن کا ماہانہ ٹارگٹ دیا جاتا ہے جس کو پورا کرنے کے لیئے سادہ خواتین کو جھانسہ دیکر شناختی کارڈ لیکر سم ایکٹیویٹ کرتے ہیں جن کو بعد میں بڑی رقم کے عوض فروخت کیا جاتا ہے اور وہ سم کارڈ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کام میں اسد، طارق آرائیں، بہاول عمرانی، قربان خاصخیلی اور دیگر شامل ہیں اور کہا کہ اس سارے کام کا ماسٹر مائینڈ بی آئی ایس پی کا ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بھانبھن اور نوازش میمن ہیں۔ مزید بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بھانبھن کی ساری ریکوری اسکا ڈرائیور خالد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈپٹی ڈائریکٹر معروف بھانبھن کے کہنے پر کام نہی کرتے تو وہ دھمکیاں دیتا ہے۔ ریاستی ادارے نے اس سنگین کرپشن پر سخت ایکشن لیتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ شہریوں نے اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ نادار خواتین کا حق کھانے والے بااثر مافیا کے خلاف یہ آپریشن ناگزیر تھا، اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔” شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث تمام عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
93 − 92 =