چین میں جدید ٹیکنالوجی سے آثار قدیمہ کا تحفظ


تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین کا تاریخی شہرہانگ چو اپنی قدیم تہذیب، ثقافتی ورثے اور تاریخی آثار کے باعث دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اسی شہر میں واقع دیشو محل جنوبی سونگ عہد کی شاہی تاریخ، فنِ تعمیر اور باغبانی کے حسن کی ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں تک زمین تلے مدفون رہنے والا یہ شاہی محل آج جدید آثارِ قدیمہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے امتزاج کے ذریعے دوبارہ زندہ ہو چکا ہے اور ہانگ چو کے نمایاں ثقافتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

شاہی محل سے ثقافتی ورثے تک کا سفر

دیشو محل ہانگ چو کے شانگ چھنگ ضلع میں واقع تھا اور جنوبی سونگ سلطنت کے اہم سیاسی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ اسے “شمالی اندرونی دربار” کہا جاتا تھا جبکہ فینکس پہاڑ کے دامن میں واقع شاہی شہر کو “جنوبی اندرونی دربار” کی حیثیت حاصل تھی۔ 1162ء میں شہنشاہ گاوزونگ کے تخت سے دستبردار ہونے کے بعد اس محل کو “دیشو محل” کا نام دیا گیا۔

بعد ازاں شہنشاہ شیاو زونگ نے والدین سے عقیدت کے اظہار کے طور پر اس محل کو مزید وسعت دی اور اسے ایک پُرتعیش شاہی قیام گاہ میں تبدیل کر دیا، جہاں وسیع باغات، شاہی رہائشی حصے اور تفریحی مقامات قائم کیے گئے۔ جنوبی سونگ عہد کے متعدد شہنشاہ یہاں مقیم رہے، جس کے باعث یہ محل شاہی زندگی کا اہم مرکز بن گیا۔

دو دہائیوں پر محیط آثارِ قدیمہ کی کھدائیاں

تقریباً بیس برس تک جاری رہنے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں نے دیشو محل کی عظمت کو دوبارہ دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ ماہرین نے محل کی بنیادیں، وسیع تالاب، نکاسیٔ آب کے جدید نظام، مصنوعی پہاڑیوں اور باغات کے آثار دریافت کیے۔ ان دریافتوں سے معلوم ہوا کہ یہ شاہی کمپلیکس تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط تھا۔

ان آثار میں سب سے حیرت انگیز دریافت “چھوٹی ویسٹ لیک” یا “دا لونگ چی” تھی، جو محل کے عقبی باغ میں واقع تھا۔ اس جھیل میں ویسٹ لیک سے پانی لایا جاتا تھا اور اس کے گرد مصنوعی پہاڑیاں تعمیر کی گئی تھیں تاکہ ویسٹ لیک کے قدرتی مناظر کی عکاسی کی جا سکے۔ یہاں “لینگ اسپرنگ” اور “فیلائی چوٹی” جیسے مناظر بھی تخلیق کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس باغ کی خوبصورتی جنوبی سونگ شاہی محل کے مرکزی باغات سے بھی زیادہ دلکش تھی۔

دیشو محل کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہاں جنوبی حصے میں شاہی عمارتیں جبکہ شمالی حصے میں باغات قائم تھے، جو سونگ عہد کے شاہی باغات کی ایک نادر مثال سمجھی جاتی ہے۔

قدیم آثار اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج

نومبر 2022ء میں یہاں قائم میوزیم عوام کے لیے کھول دیا گیا، جو براہِ راست انہی آثار کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عجائب گھر کی تعمیر میں “اصل مقام اور درست بحالی” کے اصول کو اپنایا گیا۔ “چونگ ہوا ہال” سمیت متعدد عمارتوں کی بحالی سونگ دور کے تعمیراتی مخطوطے “ینگ زاؤ فاشی” اور قدیم مصوری کی بنیاد پر کی گئی۔

یہ عجائب گھر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آثار کے مقام پر آنے والے افراد خصوصی تھری ڈی پروجیکشنز کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح محل کی عمارتیں اپنی بنیادوں سے دوبارہ ابھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح اے آر چشموں کی مدد سے سیاح خود کو سونگ عہد کے شاہی ماحول میں محسوس کرتے ہوئے درباری شخصیات اور محل کی خواتین کے ساتھ “بات چیت” کا تجربہ بھی حاصل کرتے ہیں۔

جدید ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز
آج دیشو محل محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں فیشن نمائشیں، موسیقی کی تقریبات اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جن میں عالمی برانڈز کی نمائشیں بھی شامل رہی ہیں۔

اسی طرح “سونگ طرز کی کافی”، ثقافتی یادگار اشیاء اور “لٹل ڈیئر دے” جیسی مقبول علامتی مصنوعات نوجوان نسل میں خاصی مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ سونگ عہد پر مبنی کردار نگاری اور معمہ حل کرنے والے تفریحی کھیل بھی نوجوانوں کی بڑی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

دیشو محل بلا شبہ جنوبی سونگ عہد کی تاریخ، فنِ تعمیر، باغبانی اور شاہی ثقافت کا ایک شاندار ورثہ ہے، جسے جدید دور میں نہایت خوبصورتی سے محفوظ اور پیش کیا گیا ہے۔ یہ مقام نہ صرف چین کی تاریخی عظمت کی جھلک پیش کرتا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ثقافتی تخلیق کے ذریعے ماضی کو حال سے جوڑنے کی ایک کامیاب مثال بھی بن چکا ہے۔ دیشو محل آج ہانگ چو کی ان نمایاں ثقافتی علامتوں میں شامل ہے جہاں ایک ہزار سال پرانی سونگ تہذیب جدید انداز میں دوبارہ زندہ دکھائی دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
− 3 = 3