سندھ ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے نجی اسکولوں کے نمائندگان اور محکمۂ تعلیم کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد کیا تاکہ آئندہ پولیو بوسٹر ڈوز مہم کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔


سندھ ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے نجی اسکولوں کے نمائندگان اور محکمۂ تعلیم کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد کیا تاکہ آئندہ پولیو بوسٹر ڈوز مہم کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس کی قیادت کرتے ہوئے سربراہ سندھ انسداد پولیو پروگرام شہریار میمن نے اساتذہ کے اہم کردار کو سراہا اور انہیں والدین سے مؤثر رابطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی تلقین کی: “اساتذہ قابلِ اعتماد آواز ہوتے ہیں—آپ کی حمایت والدین کو یہ سمجھانے میں مدد دے سکتی ہے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور ہر بچے کے لیے ضروری ہے۔”
یہ مہم کراچی کی 89 یونین کونسلز میں 12 سے 25 مئی تک جاری رہے گی، جس میں 10 سال تک عمر کے 18 لاکھ بچوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
معروف ماہرِ اطفال ڈاکٹر خالد شفیع جو قومی امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے رکن بھی ہیں، نے زور دیا کہ والدین غلط معلومات کو مسترد کریں اور ویکسین پر مکمل اعتماد کریں۔ سیکرٹری تعلیم زاہد علی عباسی نے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے اس مہم کو پولیو کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ نجی اسکولوں کے نمائندگان، مسز رافعہ ملاح کی قیادت میں، نے بھرپور شرکت اور والدین تک رسائی بڑھانے کا عہد کیا۔
شرکاء کو جیٹ انجیکٹرز کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا، جس سے ویکسین کی محفوظ اور جدید طریقۂ کار سے فراہمی کو اجاگر کیا گیا۔
قانون کے مطابق ویکسینیشن لازمی ہے، اور اسکولوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ آگاہی خطوط شیئر کریں تاکہ ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
اساتذہ، ماہرینِ صحت اور کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں سے کراچی پولیو سے پاک مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
#PolioFreeSindh #EndPolioNow #boosterdose

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
77 − = 72