
ڈاکٹر عشرت العباد خان عوام کی امنگ اور نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز ہیں پورے پاکستان میں انکی پزیرائی وطن پرست سوچ اور ریاست پہلے سیاست بعد میں کے نعرے پر ہورہی ہے جو اب قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، پنجاب کے مختلف شہروں کے ذمہ داران اور نئے شامل ہونے والے ورکرز سے اسلام آباد میں خطاب
کہ ہم نے میری پہچان پاکستان اور ریاست پہلے کا نعرہ اسوقت لگایا جب ملک میں انتشار اور اداروں سے نفرت اور 9مئی جیسے واقعات ہو چکے تھے۔ ہم نے قوم میں بیداری کی لہر دوڑائی۔ کیونکہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی سوچ وفاق اور تمام اکائیوں کو ایک لڑی میں پرونے کے لئے ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے لئے پاکستان میں صدائیں بلند ہو رہی ہیں جو ا نکی ملکی سیاست میں مثبت اور سیاست میں شرافت کے نظریئے کے ساتھ ساتھ انکی 14سالہ خدمات کا نتیجہ ہیں۔ نہال احمد صدیقی
کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے انچارج مرکزی کمیٹی نہال احمد صدیقی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان عوام کی امنگ اور نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز ہیں پورے پاکستان میں انکی پزیرائی وطن پرست سوچ اور ریاست پہلے سیاست بعد میں کے نعرے پر ہورہی ہے جو اب قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد، راولپنڈی، پنجاب کے مختلف شہروں کے ذمہ داران اور نئے شامل ہونے والے ورکرز سے خطاب میں کہی اپنے طوفانی دورے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے میری پہچان پاکستان اور ریاست پہلے کا نعرہ اسوقت لگایا جب ملک میں انتشار اور اداروں سے نفرت اور 9مئی جیسے واقعات ہو چکے تھے۔ ہم نے قوم میں بیداری کی لہر دوڑائی۔ کیونکہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی سوچ وفاق اور تمام اکائیوں کو ایک لڑی میں پرونے کے لئے ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے لئے پاکستان میں صدائیں بلند ہو رہی ہیں جو ا نکی ملکی سیاست میں مثبت اور سیاست میں شرافت کے نظریئے کے ساتھ ساتھ انکی 14سالہ خدمات کا نتیجہ ہیں۔ مختلف نشستوں میں انکا دور اور کراچی کو بہترین فنڈز دلا کر دنیاکا بہترین شہر اور ایم نائن سمیت سندھ کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کی ترقی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب وہ ملک بھر میں یادگار کردار ادا کر رہے ہیں۔ سندھ کے شہری علاقوں اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے انہیں واپس آنے کی آوازیں لگ رہی ہیں۔ ہم پورے ملک میں روزگار، بہتر معیشت اور صنعتوں کا جال بچھائیں گے۔ نوجوانوں کی مایوسی کے دن ختم ہوں گے۔پنجاب کے ہر شہر سے ہمیں رسپانس ملا ہے۔ ملک گیر تحریک ہیں سیاست میں انقلاب لائیں گے۔ فیلڈ مارشل نے وقار بلند کیا پاکستان عظیم ریاست بن چکا ہے۔ ہم پاکستان کو عظیم ریاست کے ساتھ ساتھ ترقی پسند ملک بنائیں گے۔ انہوں نے بلوچستان، کے پی، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مانسہرہ، کے وفود سے بھی ملاقات کی اور جلد سب جگہ مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ دنیا کے جنگی حالات بہتر ہوتے ہی اجلاس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ تمام ذمہ داران نے کہا کہ وہ سب شہروں میں جنرل ورکرز اجلاس اور جلسوں کے انعقاد کے لئے تیار ہیں۔ اس موقع پر متعدد افراد نے شمولیت کا اعلان کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
==================
شہر میں لاقانونیت اور اینکر آمنہ فاطمہ کے گھر اللہ والا ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات، لانڈھی میں مسلسل اسی ماہ میں چھٹی بار موٹر سائیکل سوار کو ہیوی ٹریفک سے کچلنے کے واقعہ، چار ماہ میں 489افراد کو کچلنے اور 980کو زخمی کرنے کے واقعات کو بیڈ گورننس اور لوٹو کراچی لوٹو مہم (ایکسائز کی گا ڑیوں کی نمبر پلیٹ اور بھتہ مہم) کی سخت مذمت،و زیر داخلہ سندھ بڑے زور و شور سے نئے کیمراز کا افتتا ح کرتے ہیں۔ جرائم نہ ہونے کی کہانی بیان کرتے ہیں لیکن شاہ فیصل برج پر کچے کے ڈاکو پکے کے ڈاکو بن کر جدید اسلحہ کے ساتھ کئی گھنٹے لوٹ مار کرتے ہیں۔ لیکن آج تک گرفتار نہیں ہوئے۔ میٹرک امتحانات کھیل بن گئے گوٹھوں میں گھر بیٹھ کر پرچے کرائے جا رہے ہیں۔ مخصوص افراد بورڈز پر قابض ہیں۔ کراچی کی صورتحال فیلڈ مارشل کی توجہ کی متقاضی ہے۔ مرکزی کمیٹی ایم پی پی
کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے شہر میں لاقانونیت اور اینکر آمنہ فاطمہ کے گھر اللہ والا ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات، لانڈھی میں مسلسل اسی ماہ میں چھٹی بار موٹر سائیکل سوار کو ہیوی ٹریفک سے کچلنے کے واقعہ، چار ماہ میں 489افراد کو کچلنے اور 980کو زخمی کرنے کے واقعات کو بیڈ گورننس اور لوٹو کراچی لوٹو مہم (ایکسائز کی گا ڑیوں کی نمبر پلیٹ اور بھتہ مہم) کو سخت تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر داخلہ سندھ بڑے زور و شور سے نئے کیمراز کا افتتا ح کرتے ہیں۔ جرائم نہ ہونے کی کہانی بیان کرتے ہیں لیکن شاہ فیصل برج پر کچے کے ڈاکو پکے کے ڈاکو بن کر جدید اسلحہ کے ساتھ کئی گھنٹے لوٹ مار کرتے ہیں۔ لیکن آج تک گرفتار نہیں ہوئے۔ میٹرک امتحانات کھیل بن گئے گوٹھوں میں گھر بیٹھ کر پرچے کرائے جا رہے ہیں۔ مخصوص افراد بورڈز پر قابض ہیں۔ کراچی کی صورتحال فیلڈ مارشل کی توجہ کی متقاضی ہے آباد اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے جب شکایت اعلی سطح پر کی تو وزیر داخلہ کو لینڈ گریبرز یاد آگئے۔ جبکہ قبضہ مافیا کی اصل جڑ حکومت سندھ خود ہے۔ مئیر کراچی نے کراچی دشمنی میں حق دو کراچی کو گالی سمجھ لیا۔ زمینیں کے ایم سی کی چھن گئیں میئر نے بچانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ قبضہ مافیا انکے اپنوں کی تھی۔ کراچی کرچی کرچی ہے۔ فکر کراچی نشست جیسی سوچ کو جہاں کراچی کے حوالے سے مطالبات ہوئے اگر مئیر اور حکومت سندھ کراچی کے دکھوں کا ازالہ کرتی تو یہ نشست بے معنی ہوجاتی لیکن انتقامی سوچ کراچی کو دن بدن احساس دلا رہی ہے کہ وہ لاوارث شہر ہے۔ ہم گڈ گورننس کے لئے سندھ حکومت کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں ورنہ لاوا پک رہا ہے۔ کرچی کرچی شہر کو توجہ نہ دی گئی تو فکر کراچی نشست نتیجہ خیز ہوجائے گی۔ ہم محبت کے سفیر ہیں امن اور نفرت کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس لئے فوری کچے اور پکے کے ڈاکووں اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور لوٹنے کے واقعات پر سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

















