نقل اور پیپر لیک میں ملوث 4 مختلف گینگز کے سرغنہ گرفتار

کراچی (اسٹاف ررپورٹر)شہرمیں جاری میٹرک بورڈ کے امتحانات میں نقل مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مارکارروائیوں میں منظم نقل اور پیپر لیک کے دھندے میں ملوث 4 مختلف گینگز کے سرغنہ کوگرفتارکرلیا ،ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدرنے بتایا کہ ایس آئی یو پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پرملیر،سرجانی، نیو کراچی اور گلشن اقبال سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر مبین خان، اسامہ، بلال اورعبدالرزاق کو گرفتار کیا ، ملزمان طالبعلموں سے پیپر لیک کے بدلے لاکھوں روپے کما چکے ہیں انھوں نے مزید بتایاکہ شہر میں نقل مافیا کے 8 سے 10 گینگز متحرک ہیں، گرفتار 4 ملزمان میں سب سے بڑا گروپ مبین خان کا ہے، مبین خان کے 13 گروپس میں 13 ہزار طالبعلم ممبرز ہیں،مقدس حیدر نے بتایا کہ مبین خان سندھ مدرستہ الاسلام میں سائبرسیکیورٹی فائنل کا طالبعلم ، دیگر ملزمان میں انٹر کا طالبعلم بھی شامل ہے، ملزمان ایک رات پہلے پیپر لیک ہونے کی گارنٹی دے کر پیسے لیتے تھے اور مختلف آن لائن بینکنگ چینلز سے وصولی کی جاتی تھی ، گرفتارملزمان سے تفتیش کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

============================

پاکستان میں ایچ آئی وی کا خطرناک پھیلاؤ، کیسز میں 4.3 گنا، اموات میں 6.4 گنا اضافہ
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (بابر علی اعوان) پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی صورتحال تیزی سے تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں ایک جانب دنیا بھر میں اس مرض کے نئے کیسز میں کمی آ رہی ہے، وہیں پاکستان میں 2010کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں4.3گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور 2024تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس کی بڑی وجہ صحت کے نظام میں موجود سنگین خامیاں، غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور ناقص انفیکشن کنٹرول ہیں۔ میڈیکل مائیکرو بایولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں بھی 6.4گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2010میں 2,200سے بڑھ کر سالانہ 14,000تک پہنچ چکی ہیں۔ مزید براں صرف 21فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہو پاتی ہے جبکہ محض 16فیصد علاج حاصل کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر انتہائی کم شرح ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ اب صرف مخصوص ہائی رسک گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، خصوصاً خواتین اور بچوں تک بھی منتقل ہو رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 39 فیصد کیسز اب ایسے افراد میں سامنے آ رہے ہیں جو عام طور پر کم خطرے والے سمجھے جاتے تھے۔ ملک میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران متعدد بڑے ایچ آئی وی آؤٹ بریک سامنے آئے، جن میں رتوڈیرو، فیصل آباد، کوٹ عمرانہ اور جلال پور جٹاں شامل ہیں۔ خاص طور پر 2019 میں رتوڈیرو لاڑکانہ میں ہونے والا آؤٹ بریک دنیا میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے والے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 82 فیصد بچے 15 سال سے کم عمر تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان بچوں میں سے 99 فیصد نے بیماری سے قبل انجیکشن لگوائے تھے جبکہ اکثر کی مائیں ایچ آئی وی سے محفوظ تھیں، جس سے واضح ہوا کہ وائرس طبی غفلت کے باعث پھیلا۔ حالیہ برسوں میں بھی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی۔ 2024 میں ملتان کے ایک ڈائلیسس یونٹ میں 31 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی، جہاں ایک ہی ذریعہ انفیکشن سامنے آیا۔ اسی طرح کراچی کے علاقے سائٹ ٹاؤن میں 2025 کے دوران ایک ہی صحت مرکز سے منسلک 15 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جن میں کم از کم دو اموات بھی ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں “انجیکشن کلچر” اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے، جہاں ہر فرد کو سالانہ اوسطاً 8 سے 13 انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ انجیکشن زیادہ مؤثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض ڈاکٹرز مالی فوائد کے لیے بھی اس رجحان کو فروغ دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 38 فیصد تک ڈاکٹرز سرنجز کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں، جو انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس کے علاوہ غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، اور اتائی (غیر تربیت یافتہ) ڈاکٹرز بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 44 فیصد نئے کیسز بھی غیر محفوظ انجیکشنز سے جڑے ہوئے ہیں، جو نظام صحت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں صحت کے عملے کو درپیش خطرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 66 سے 77 فیصد ہیلتھ ورکرز کو سوئی چبھنے کے واقعات پیش آتے ہیں جبکہ 90 فیصد ایسے مواقع پر دستانے بھی استعمال نہیں کیے جاتے۔
===================

اسلام آباد میں ایڈز کیسز میں خطرناک اضافے کی خبر درست نہیں
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد(آئی این پی ) وزارت قومی صحت نے اسلام آباد میں ایڈز کیسز سے متعلق میڈیا رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے تردید کی ہے کہ ایڈز کیسز میں خطرناک اضافے کی خبر درست نہیں ہے۔وزارت صحت سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں ایڈز کی وبائی صورت حال کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، دارالحکومت میں ماہانہ ایچ آئی وی کیسز کی تعداد معمول کے مطابق ہے، اور ماہانہ کیسز کی تعداد میں کمی بیشی نارمل ہے۔
========================

بوٹ بیسن سے ملنے والی 2 کم عمر بہنوں میں سے ایک دوران علاج جاں بحق
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )بوٹ بیسن کے علاقے سے ملنے والی 2 کم عمر بہنوں میں سے ایک بہن دوران علاج جاں بحق ہو گئی۔13 سالہ مقدس سول اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئی۔دوسری بہن 9 سالہ جیرش کو پولیس کی نگرانی میں والدہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔دونوں بہنیں مبینہ طور پر اپنی آنٹی کے ہمراہ صادق آباد سے کراچی آئی تھیں جنھیں 17 اپریل کی شب لاوارث حالت میں بوٹ بیسن سے تحویل میں لیا گیا تھا۔پولیس نے بچیوں کو ایدھی فاؤنڈیشن کے سپرد کیا تھا۔ساؤتھ پولیس کے مطابق بچی کا پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا ہے۔پوسٹ مارٹم میں تشدد یا جنسی زیادتی کے کوئی آثار نہیں ملے تاہم موت کی وجہ محفوظ ہے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر بچی کی طبیعت شوگر لیول بڑھنے سے خراب ہوئی۔بیمار ہونے پر بچی کو سول اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بچی طبیعت خراب ہونے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ اور پولیس کا بیان بھی سامنے آیا تھا۔پولیس کی جانب سے بچی کا میڈیکل کروایا گیا۔ںچی کا سی مین، ڈی این اے اور بلڈ سیمپل محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں واضح طور پر زیادتی کا نہیں بتایا گیا۔کیمیکل ایگزائمن رپورٹ سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی، پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے ساتھ کب ہوئی یا نہیں ہوئی کیمیکل ایگزائمن رپورٹ سے پتہ چل سکے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیمیکل ایگزائمن رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں ۔دوسری جانب بچیوں کی ماں کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ بچیاں کس کے ساتھ کراچی آئیں تھیں ہم تو بچیوں کو صادق آباد میں تلاش کرتے رہے لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔بچی کی وجہ موت شوگر کی زیادتی ہوسکتی ہے ۔متوفیہ کی بہن جیرش کا کہنا ہے کہ کوئی خاتون انھیں لے کر آئی تھی اور اس نے کوئی نشہ آور چیز کھلانے کی کوشش بھی کی ۔بچی کے ورثا میت وصول کر کے تدفین کے لیے آبائی علاقے صادق آباد کے لیے روانہ ہوگئے ۔

======================

نیو سبزی منڈی، ڈاکو پیٹرول پمپ مالک کو گولی مار کر 75 لاکھ روپے لوٹ کر فرار
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سائٹ سپر ہائی وے تھانہ کی حدود سپر ہائی نیو سبزی منڈی کے مرکزی گیٹ کے سامنے مسلح ڈاکوؤں نے پیٹرول پمپ کے مالک کو گولی مار کر 75لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔ موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے پیٹرول پمپ کے مالک کی گاڑی کو روک کر 75لاکھ روپے لوٹے اور فرار ہوگئے،پولیس کے مطابق ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان نے پیٹرول پمپ کے مالک کی ٹانگ پر گولی ماردی ، واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں موٹر سائیکل پر سوار 3 ملزمان کو سفید کار کا پیچھا کرتے دیکھا گیا۔اسلحے کے زور پر ملزمان نے گاڑی کو روکا، ایک ملزم نے گاڑی کے آگے موٹر سائیکل لٹا دی، ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیٹرول پمپ کے مالک کو ٹانگ پر گولی مار دی، جاتے جاتے گاڑی کے پیچھے کھڑےدونوں ملزمان گاڑی کے پچھلے ٹائر پر مسلسل گولیاں چلاتے رہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے گاڑی سے 75 لاکھ روپے نکالے اور پیدل سپر ہائی وے پر بھاگے، جائے وقوع پر موجود شہری سے ملزمان نے موٹر سائیکل چھینی اور اس پر فرار ہو گئے۔

====================

صوبائی اور وفاقی ایچ ای سیز تحقیق کیلئے مل کر کام کرینگے، ڈاکٹر نیاز
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(سید محمد عسکری) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ صوبائی ایچ ای سیز اور وفاقی ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے مل کر کام کریں گے۔ 20پرچوں کی اشاعت سے بہتر ہے کہ ایک ایسا پرچہ شائع کیا جائے جس کا امپیکٹ فیکٹر ہو۔ بغیر امپیکٹ فیکٹر کے تحقیقی پرچے بیکار ہیں وہ پیر کو سندھ مدرسہ اسلام یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر نیاز احمد نے یونیورسٹی میں اسمارٹ کلاس روم کا افتتاح کیا اور اویس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی کی کارکردی کو سراہا۔ ڈاکڑ نیاز نے کہا کہ تحقیق ایسی ہو جس کا معاشرے اور صنعتوں کو فائدہ پہنچے، ڈاکٹر نیاز نے کہا کہ ہمارے نوجوان اساتذہ اور محقیقین ایسی تحقیق کریں جس سے ملک کو فائدہ ہو اور پاکستان کا نام روشن ہو۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایسے تاریخی ادارے آیا ہوں جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح زیر تعلیم رہے۔
====================

نوجوان کی جلی ہوئی لا ش کا معمہ حل، سسر اور سالہ گرفتار
21 اپریل ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کیماڑی انوسٹی گیشن پولیس نے12 روز قبل سہراب رند گوٹھ سے نوجوان کی جلی ہوئی لاش ملنے کا معمہ حل کرتے ہوئے قتل میں ملوث مقتول کے سسراورسالے کوگرفتارکرکے آلہ قتل برآمد کرلیا، ملزمان نے مقتول کوبہانے سے بلواکربیلچے کے وارکرکے قتل کیا اور لا ش کوپیٹرول ڈال کرجلادیا ، سسر کے مطابق مقتول نے بیٹی سے پسند کی شادی کی،مانع حمل ادویہ کھلانے سے موت ہوگئی جس کا رنج تھا ، مقتول کی شناخت تلاش ایپ کے ذریعے29سالہ فیضان ستی عرف فیضی ولد شیراز اخترکے نام سےکی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
42 − = 32