وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ نجیب شہید اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے مرہون منت آج ہم اور آپ اس شہر میں سیاست کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ نجیب شہید اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے مرہون منت آج ہم اور آپ اس شہر میں سیاست کررہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی آج قائم و دائم ہے تو ان شہداء کی قربانیوں کے ہی مرہون منت ہے۔ ہمارے نوجوانوں نے ان شہداء کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے پارٹی کو سیاسی اور نظریاتی طور پر ڈسیپلین کے ساتھ منظم نہیں کیا اور نہیں چلایا تو یہ جماعت آگے نہیں بڑھے گی اور یہ بھی ایک لوگوں کا مجموعہ بن جائے گی جیسے اس وقت دوسری جماعتیں بن گئی ہیں۔ ہمیں اپنے شہداء کی یاد میں تقریبات سے یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ ان شہداء نے جس مقصد، سوچ اور نظریہ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اس کو ہمیں پورا کرنا ہے۔آج پاکستان پیپلز پارٹی سے اس ملک کے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پیپلز سیکریٹریٹ کراچی میں شہید نجیب احمد کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی ، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری رئوف احمد ناگوری، سید نجمی عالم، انفارمیشن سیکرٹری شرمیلا فاروقی، سینیٹر مسرور احمد، پی ایس ایف کراچی کے صدر مدنی رضا کے علاؤہ شہید نجیب احمد کے ساتھیوں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ جس وقت میں شہید نجیب احمد اور ان کے ساتھی اس شہر میں سیاست کررہے تھے اس وقت کے حالات اور اب کے حالات میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اس وقت کی سیاست میں سب سے پہلا ڈر یہی ہوتا تھا کہ جو بھی پیپلز پارٹی کی اس شہر میں سیاست کرے گا اس کو جان سے مار دیا جائے گا اور اس وقت ایم۔کیو ایم نے اس شہر میں ایسے حالات بنا رکھے تھے کہ یہاں سیاست کرنا ناگزیر بن چکا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنان کو صرف اس لئے شہید کردیا گیا تھا کہ وہ اس شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جھنڈا لے کر سیاست کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت آپ سب خوش نصیب ہیں کہ آج ہمیں وہ حالات میسر ہیں کہ ہم کھل کر یہاں سیاست کررہے ہیں اور صرف سیاست کے لئے بلکہ اس شہر کے لئے یہاں کے نوجوانوں کے لئے، ہماری ماں بہنوں کے لئے بھی یہ حالات اچھے ہیں کہ کوئی نوجوان اس شہر میں نہیں مرتا اور کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی یا شوہر یہاں بے گناہ نہیں مارا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ان حالات کے ہونے میں حکومتوں اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کا رول اپنی جگہ لیکن اس میں ان شہداء کا کردار بھی اہم ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان نوجوانوں نے اس وقت میں دہشتگردی کا مقابلہ کیا اور اس کے خوف سے خاموش ہونے کی بجائے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تو آج پُرامن حالات ان ہی کے دم سے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نجیب شہید اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے مرہون منت آج ہم اور آپ اس شہر میں سیاست کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جہاں جہاں اس شہر میں کامیابیاں ملتی ہیں، جہاں جہاں پیپلز پارٹی کا کام اچھا ہوتا ہے ، لوگ پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتے ہیں وہاں ہمیں ان شہداء کی جانب بھی دیکھنا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں اگر یہ یاد ہوگا کہ ہماری کامیابیوں میں ان کا خون شامل ہے تو ہمیں مزید کامیابیاں ملتی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ہم بھٹو کی، بی بی شہید کی اور ان شہداء کی قربانیوں کو بھول گئے تو پھر اس پارٹی کا نام لیوا اس شہر تو کیا ملک اور دنیا میں نہیں رہے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی آج قائم و دائم ہے تو ان شہداء کی قربانیوں کے ہی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پیپلز پارٹی کے علاؤہ بہت سے سیاسی جماعتیں ہیں جو سیاست کررہی ہیں اور سیاست میں عروج و زوال بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پیپلز پارٹی کے علاؤہ کوئی ایسی جماعت نہیں ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کوئی آزادی کی تحریک کی جماعت نہیں تھی، پیپلز پارٹی کوئی دہشتگرد تنظیم نہیں تھی اور نہ کسی اور قسم کی جماعت بھی نہیں تھی بلکہ پیپلز پارٹی حقیقی اور اصلی طور پر مکمل ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوتا جو ماضی میں ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اور بالخصوص نوجوانوں کو جو آج پی ایس ایف اور پیپلز یوتھ کے یہاں موجود ہیں ان کو اس پارٹی کو آگے لے کر چلنا ہے اور اگر ہم نے اپنے اندر ڈسیپلین پیدا نہیں کیا تو ان ساری قربانیوں پر پانی پھر جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں نے ان شہداء کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے پارٹی کو سیاسی اور نظریاتی طور پر ڈسیپلین کے ساتھ منظم نہیں کیا اور نہیں چلایا تو یہ جماعت آگے نہیں بڑھے گی اور یہ بھی ایک لوگوں کا مجموعہ بن جائے گی جیسے اس وقت دوسری جماعتیں بن گئی ہیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ جہاں ہماری قیادتوں کی عظیم قربانیاں ہیں، ہمارے کارکنوں کی عظیم قربانیاں ہیں ان قربانیوں کا کچھ قرض ہم پر بھی ہے کہ ہم پارٹی کے نظریہ کو سمجھیں، اس کو پڑھیں، اس کی اساس کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ اس پر آپ اپنی سیاست کو کھڑا کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو آپ کا سیاسی سفر مضبوط اور طویل ہوگا۔ آپ کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو اپنے ساتھ ساتھ پارٹی کو بھی آگے لے کر چل سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان پیپلز پارٹی سے اس ملک کے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تو خوش قسمتی ہے کہ ہمارا چیئرمین نواجوان ہے، اس کے پاس ایک لمبی سیاسی زندگی ہے اور آپ نوجوانوں نے اس کے ساتھ سیاست کرنی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر آپ سیاسی اور نظریاتی طور پر فارغ ہوں گے اور آپ کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ہمیں سیاست کیسے اور کیوں کرنا ہے تو ایسا نہ ہوگا کہ چیئرمین صرف تن تنہا ہی ہو اور ہم کوئی ساتھ نہ ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں اس طرح کی تقریبات سے یہ بات سمجھنا ہوگی کہ جس سوچ اور نظریہ اور جس مقصد شہداء کے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اس کو سمجھنا چاہیے۔

جاری کردہ: زبیر میمن ، میڈیا کنسلٹنٹ وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی 03333788079

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
1 + 5 =