
ڈاکٹر عشرت العباد خان سے دبئی میں اہم ملاقات، کشمیر اور ملکی سیاست پر تبادلہ خیال
عالمی امن میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین، سید عاصم منیر اور شہباز شریف کی قیادت کو سراہا گیا
کشمیر مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمہ ناگزیر قرار
وفد میں فرزانہ خان، غزالہ خان اور دیگر شخصیات کی شرکت
“پاکستان زندہ باد، کشمیر ہماری شہ رگ ہے” — ڈاکٹر عشرت العباد خان
—
(MPP میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر):
دبئی: ڈاکٹر عشرت العباد خان کی رہائش گاہ پر ایک اہم اور باوقار ملاقات منعقد ہوئی، جس میں کشمیر وفد کے اراکین اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ ملاقات میں پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور مسئلہ کشمیر پر تفصیلی اور بامقصد گفتگو کی گئی۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنی بصیرت، تجربے اور شاندار میزبانی سے تمام شرکاء کو متاثر کیا۔ شرکاء نے ان کی علمیت اور معلوماتی گفتگو کو سراہتے ہوئے اس ملاقات کو نہایت مفید قرار دیا۔
وفد میں فرزانہ خان، غزالہ خان اور مسٹر داؤد سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں، جنہوں نے مسئلہ کشمیر کے انسانی، سفارتی اور سیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر فرزانہ خان نے ڈاکٹر عشرت العباد خان کو کشمیر پر مبنی ایک کتاب بھی پیش کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں۔ انہوں نے سید عاصم منیر اور شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما دانشمندی اور ذمہ داری کے ساتھ معاملات کو سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ حتمی ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا، “پاکستان زندہ باد، اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔” مزید کہا کہ دنیا اس وقت مختلف بحرانوں کا شکار ہے مگر پاکستان انشاءاللہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے جنگوں کے خاتمے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مزید کہا کہ “میری پہچان پاکستان” کے وژن کے تحت دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور کشمیری عوام کے جذبات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے پرامن حل کے لیے قومی اتحاد، مؤثر سفارت کاری اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
آخر میں شمس العباد خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا جن کی میزبانی اور تعاون نے اس ملاقات کو مزید یادگار بنا دیا۔
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی مسائل خصوصاً کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے مکالمہ، اتحاد اور جمہوری جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔

















