دنیا اسوقت ایک نازک معاشی اور سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہ ہوا تو اسکے اثرات براہ راست عالمی مہنگائی، توانائی بحران اور ترقی پزیر ممالک پر پڑیں گے


دنیا اسوقت ایک نازک معاشی اور سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہ ہوا تو اسکے اثرات براہ راست عالمی مہنگائی، توانائی بحران اور ترقی پزیر ممالک پر پڑیں گے۔ دنیا کو اب ضد نہیں لچک اور حکمت کی ضرورت ہے اور بڑی طاقتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ عالمی معیشت مذید دباؤ اور برداشت نہیں کرسکتی
سندھ میں نفرتوں کا عمل بند ہو جائے اور حقداروں کی حق تلفی نہ ہو تو ہم اس صوبے کو ماڈل صوبہ بنا سکتے ہیں لیکن متعصبانہ سوچ ملک اور صوبے کے لئے زہر قاتل ہے۔ میرے نوجوان روز ہیوی ٹریفک سے کچلے جا رہے ہیں مائیں بہنیں کچل دی جاتی ہیں کراچی میں ڈاکو راج ہے۔ زمینیں چھن رہی ہیں لینڈ گریبرز کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ماردیا جاتا ہے۔ کے ایم سی، ٹی ایم سیز، کے ڈی اے، ایچ ڈی اے، ایس ڈی اے، ایس بی سی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، واٹر کارپوریشن، سالڈ ویسٹ سب پر مخصوص افراد کا قبضہ ہے جعلی بھرتیوں سے میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ اور (ایم پی پی) میری پہچان پاکستان کے روح رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ دنیا اسوقت ایک نازک معاشی اور سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہ ہوا تو اسکے اثرات براہ راست عالمی مہنگائی، توانائی بحران اور ترقی پزیر ممالک پر پڑیں گے۔ دنیا کو اب ضد نہیں لچک اور حکمت کی ضرورت ہے اور بڑی طاقتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ عالمی معیشت مذید دباؤ اور برداشت نہیں کرسکتی۔ پاکستان جیسے ممالک پہلے ہی مہنگائی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ کامیاب سفارت کاری سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومت پاکستان جلد خوش خبری دے گی۔ اللہ پاکستان کو عزت دے رہا ہے ہم پاکستانی ہونے پر فخر کریں اور تمام تر اختلافات بھلا کر ملکی یکجہتی اور موجودہ بحران کا مقابلہ کریں ہم سیاست نہیں ریاست کو دیکھیں۔ بیڈ گورننس نے صوبوں کو بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے۔28ویں ترمیم میں 140-Aکی ترمیم ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص، سکھر کے اہم اجلاس سے خطاب میں کہی جس میں خواتین، بیورورکریٹس اور دانشور و دیگر افراد بھی شریک ہوئے۔ محمد پناہ پنہیار مرکزی رہنما نے حیدر آباد سے نہال احمد صدیقی اور فاروق ملک نے کراچی سے، جبکہ دیگر مرکزی رہنماؤں نے مختلف شہروں سے شرکت کی۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور اب وقت ہے کہ قوم ایک ہوجائے، ہماری سوچ محبت کا پیغام اور ہم سب اکائیوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ہم گراس روٹ لیول سے ورکنگ کرنے کے بعد اب تناور درخت بن چکے ہیں۔ اگر سندھ میں نفرتوں کا عمل بند ہو جائے اور حقداروں کی حق تلفی نہ ہو تو ہم اس صوبے کو ماڈل صوبہ بنا سکتے ہیں لیکن متعصبانہ سوچ ملک اور صوبے کے لئے زہر قاتل ہے۔ میرے نوجوان روز ہیوی ٹریفک سے کچلے جا رہے ہیں مائیں بہنیں کچل دی جاتی ہیں کراچی میں ڈاکو راج ہے۔ زمینیں چھن رہی ہیں لینڈ گریبرز کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ماردیا جاتا ہے۔ کے ایم سی، ٹی ایم سیز، کے ڈی اے، ایچ ڈی اے، ایس ڈی اے، ایس بی سی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، واٹر کارپوریشن، سالڈ ویسٹ سب پر مخصوص افراد کا قبضہ ہے جعلی بھرتیوں سے میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی روڈ قتل گاہ بن گئی ہے۔ غیر یقینی حالات نے کراچی کو کرپشن سٹی اور خوف کی علامت بنا دیا ہے۔ حیدر آباد میں تباہی ہے۔ میرپور خاص بدتر حالت میں ہے۔ سکھر میں ترقی رک گئی ہے۔ کے پی میں عوامی خدمت کا فقدان ہے۔ بلوچستان میں ترقی ہو رہی ہے اور ہمارے فیلڈ مارشل نے اس صوبہ کو بہتر حالات فراہم کردیئے ہیں۔ لیکن سندھ سازش کا شکار ہے یا لوٹ مار یہ جواب حکمراں دیں۔ کراچی منی پاکستان ہے اسے ترقی نہیں دو گے تو غداری کرو گے۔ پنجاب کی تعریف کارکردگی پر ہو رہی ہے۔ ن لیگ کا گورنر ہے سندھ کے لئے وفاق سے فنڈز کیوں نہیں لاتے؟ ہم میدان میں اتریں گے تو سیاست کے خدوخال بدل دیں گے۔ ملک صرف قائد اعظم کے اصولوں پر چلے گا۔ بلدیاتی الیکشن پنجاب میں بھی کرائے جائیں۔ ایم پی پی ورکرز تیاری کرلیں۔ ہم وطن پرست ہیں اور سیاست میں شرافت اور احترام کے داعی ہیں۔ انہوں نے ورکرز کو سلام تحسین بھی پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
+ 76 = 80