
میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
ہائی وے ڈویژن میں ٹینڈرز کی بندر بانٹ اور مبینہ من مانیوں کا ایک نیا اور سنگین رخ سامنے متعدد ٹھیکیداروں نااہل قرار دینے پر ٹھیکدار سراپا احتجاج تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع کے مطابق، محکمہ ہائی وے ڈویژن کے افسران نے تمام ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کی جلدی میں متعدد ٹھیکیداروں کو مختلف وجوہات کے بنا پر نااہل قرار دے دیا ٹھیکیداروں اقبال برادرز غلام رسول قریشی اختر رضا اور دیگر کا کہنا تھا کہ سی آر سی (CRC) کو پسِ پشت ڈال دیا گیاجس پر ٹینڈرنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں کے خلاف سینکڑوں ٹھیکیداروں سپریٹینڈنٹ انجینئر (SE) کو شکایت کے ازالے کی کمیٹی یعنی CRC کے لیے درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں۔ ٹھیکیداروں نے بتایا کہ سی آر سی کمیٹی میں ٹھیکیداروں کو بلا کر 40 سال پرانے ٹھیکیداروں کے پی ای سی سرٹیفکٹ کو غلط قرار دیا جارہا ہے جبکہ 15 فیصد ٹرن آؤٹ کے بہانے بنائے جارہے ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ ہم سابقہ ادوار میں کروڑوں روپوں کے ٹھیکہ لے چکے ہماری بینک اسٹیٹمنٹ موجود ہے جبکہ ای اسٹامپ کا اب بتایا جارہا ہے جبکہ ٹینڈر میں اسکی کوئی شرط موجود نہیں تھی جبکہ ایکسیئن او پی ایس پر تین چارج لیکر غیر قانونی سیٹ پر کام سرانجام دے رہا ہے اسسٹنٹ انجینئر 17 اسکیل کا آفیسر 18 گریڈ کی پوسٹ پر موجود ہے ٹھیکیداروں نے محکمہ کے اس عمل پر اعلی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ٹھیکیداروں نے بتایا کہ قانون کے مطابق جب تک ان شکایات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، ٹینڈر کا عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے بغیر ورک آرڈر سائیڈ وزٹ اور کام کی اجازت حیرت انگیز طور پر، ابھی تک شکایات کا ازالہ ہوا ہے نہ ہی قانونی طور پر ورک آرڈر جاری کیے گئے ہیں، مگر اس کے باوجود منظور نظر ٹھیکیداروں کو سائٹس کا دورہ کروا کر وہاں کام شروع کرنے کی “گرین سگنل” دے دیا گیا ہے اس اقدام سے یہ تاثر عام ہے کہ ٹینڈر کا پورا عمل محض ایک دکھاوا ہے اور فیصلے پہلے ہی کمروں میں بیٹھ کر کیے جا چکے ہیں جو قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے سینکڑوں درخواستیں SE آفس میں پڑی ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ورک آرڈر کے بغیر سائیڈ پر کام دکھانا SPPRA رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ سی آر سی کمیٹی کے ممبر سابقہ ایگزیکٹو انجنیئر یونس پنھور ایک گنتا تاخیر سے ایس ای آفس پوچھے اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر نے اپنے سب ارڈنینٹ کو سی آر سی اٹینڈ کرنے بیھجا وہ بھی 1۔35 منٹ پر ایس ای آفس تشریف لائے۔اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کی اپیل عوامی حلقوں اور متاثرہ ٹھیکیداروں نے انتظامیہ اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور CRC کے فیصلوں تک سائٹس پر کسی بھی قسم کی سرگرمی کو معطل کیا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہ سکے۔
Load/Hide Comments

















