نئی نسل کو موجودہ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کرنے میں مدد اور رہنمائی ملے گی

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کی ملاقات

اسلام آباد 6 مئی (اے پی پی): صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں ملاقات کی۔ بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی تازہ ترین صورتحال، امن و امان اور صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے لئے جامع حکمتِ عملی اور تسلسل کے ساتھ اقدامات ناگزیر ہیں۔

خبر نامہ نمبر 2026/3797
اسلام آباد 6 مئی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں فنی اور تکنیکی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار اور مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گورنر نے ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان کے سربراہ مسٹر سونگ جنگیونگ پر زور دیا کہ وہ سکل ڈویلپمنٹ کے حوالے سے پاکستان سے چین بھیجنے کیلئے جاری جدید مہارتیں سکھانے کے پروگراموں میں بلوچستان کا حصہ ضرور بڑھائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی معاشی و معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں سرمایہ کاری کرنے اور نوجوانوں کے استعداد کار بڑھانے سے عام شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ملاقات میں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا کہ تکنیکی تعلیم ملک اور صوبے کی اقتصادی ترقی کیلئے ایک نئی تبدیلی کی قوت بنے۔ گورنر نے چائنیز گلوبل پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اسلام آباد کے حکام کو کوئٹہ دورے کی باضابطہ دعوت دی اور صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے TANG انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر منصور صدیقی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (Mr. Song Jingyong) کے ساتھ ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن پاکستان ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چائنا گلوبل پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن گروپ کے نمائندے بھی موجود تھے۔
بعد ازاں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTECH) کا دورہ کیا جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ واضح رہے کہ نیوٹیک (NAVTTC) کی چیئرپرسن گل مينه بلال اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ گورنر مندوخیل کو ادارے کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف شعبوں ، کلاسوں اور لیبارٹریز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ آپ مستقبل کو اپنی گہری بصیرت کے ساتھ نئی نسل کو موجودہ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کرنے میں مدد اور رہنمائی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لے کر بلوچستان کے دور دراز اضلاع تک ہر جگہ امید کی کرن اور معاشی طور پر بااختیار ہونے کا حوصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہماری معزز چیئرپرسن گل مینہ بلال ایک بصیرت والی خاتون کی متحرک قیادت کے بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ جب تعلیم جدید مہارتوں کے ساتھ مل جائے تو کامیابی کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں گیں۔ آج کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں مہارت صرف ایک ذاتی فائدہ نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے۔ ہم نوجوانوں کو پروفیشنل اور انڈسٹری سے متعلقہ مہارتوں سے لیس کر کے روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ ہمارا ہر نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہارت یافتہ بھی ہو۔
خبر نامہ نمبر 3798/2026
دکی 6 مئی: ڈپٹی کمشنر دکی محمد نعیم خان کی زیر صدارت ضلع بھر کے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی دکی منصور احمد بزدار، 87 ونگ لورالائی اسکاؤٹس کے میجر علی رضا، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، مختلف مدارس کے ناظمین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع میں مدارس کی رجسٹریشن کے جاری عمل، درپیش امور اور انتظامی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر دکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینی و تعلیمی حوالے سے معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کی BCRA سے رجسٹریشن کا عمل بروقت اور منظم انداز میں مکمل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدارس وفاق المدارس سے رجسٹریشن کرائیں یا نہ کرائیں، تاہم BCRA سے رجسٹریشن لازمی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام مدارس کا مکمل اور مستند ڈیٹا جلد از جلد مرتب کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی، انتظامی یا دستاویزی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت، باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مدارس انتظامیہ بھی حکومتی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے تاکہ یہ عمل خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔
خبر نامہ نمبر 3799/2026
موسیٰ خیل06 مئ :ـڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول جلیل آباد کا دورہ کیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسکول میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز II کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، اساتذہ کی حاضری اور دیگر انتظامی امور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے جاری کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں ڈپٹی کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “بچیوں کی تعلیم اور اسکولوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اساتذہ اپنی حاضری اور تعلیمی معیار کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر 3800/2026
موسیٰ خیل06 مئ:ـڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک نے بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز I کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے “حفاظتی بند جلیل آباد” کا تفصیلی دورہ کیا اور تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جاری کام کی رفتار اور معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار کو ہدایات دیں کہ منصوبے کی تکمیل میں مٹیریل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور اسے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کو سیلابی ریلوں سے تحفظ مل سکے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک نے کہا عوامی مفاد کے منصوبوں میں شفافیت اور اعلیٰ معیار ہماری اولین ترجیح ہے۔ جلیل آباد حفاظتی بند کا قیام علاقے کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے لہٰذا اس کی تعمیر میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتظامیہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 2026/3801
گوادر/جیوانی 6 مئی:ـوزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گنز میں ایک اہم کھلی کچہری (اوپن کورٹ) کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے کی۔
کھلی کچہری کا بنیادی مقصد بی ایس ڈی آئی کے تحت عوامی مطالبات اور تجاویز کی روشنی میں کمیونٹی ترقیاتی منصوبوں پر غور، عوامی شکایات کا براہِ راست جائزہ، مسائل کا فوری حل تلاش کرنا اور جاری ترقیاتی اسکیموں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ اس موقع پر بی ایس ڈی آئی فیز ون اور ٹو کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا، جبکہ عوامی رائے اور مقامی منتخب نمائندوں کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ بی ایس ڈی آئی فیز تھری میں شامل کیے جانے والے منصوبوں پر بھی مشاورت کی گئی۔
کھلی کچہری میں چیئرمین یونین کونسل گنز حاجی فیض محمد، وائس چیئرمین زاہد صالح، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالرحیم، محکمہ پی ایچ ای کے نمائندہ ساجد، ایڈووکیٹ جمیل احمد، انجینئر محمد سمیع، بی اینڈ آر کے نمائندہ خلیل احمد، تحصیلدار اعظم گچکی، ایس ایچ او یاسر علی اور کونسلر طارق وحید سمیت مختلف محکموں کے افسران اور مقامی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر شہریوں نے اپنی عوامی شکایات کھل کر پیش کیں، جن میں پانی کی فراہمی میں قلت، توانائی بحران، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، تعلیمی ہالز اور لیبارٹری آلات کی عدم دستیابی، پبلک لائبریری سے متعلق مسائل، حفاظتی دیوار کی تعمیر، منی ڈیم کی ضرورت، گنز تا کوسٹل ہائی وے سڑک کی تعمیر، صحت کی سہولیات میں بہتری، اور وائر نیٹ کے استعمال کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری جیسے اہم مسائل شامل تھے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ نے تمام مسائل کو بغور سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کا بروقت ازالہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے مسائل کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہریوں کا انعقاد حکومت اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مسائل کے حل میں بھی تیزی آتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیش کیے گئے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کی جائے گی۔کھلی کچہری میں شہریوں اور مقامی معتبرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔کھلی کچہری کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے گنز سمیت ضلع گوادر میں پائیدار ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
خبر نامہ نمبر 3802/2026
دکی 6 مئی: ڈپٹی کمشنر دکی کی زیر صدارت ضلع میں غیر قانونی مائننگ کی روک تھام اور معدنی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 87 ونگ کے میجر علی رضا، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس منصور احمد بزدار، اسسٹنٹ کمشنر لونی فتح خان بنگلزئی، انسپکٹر مائنز یار جان اور دیگرنے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کان کنی کی صورتحال، اس کے تدارک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران غیر قانونی مائننگ سے قومی وسائل کو پہنچنے والے نقصان، ماحولیاتی اثرات اور حکومتی ریونیو میں کمی جیسے اہم امور پر بھی غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر دکی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور ایسے مقامات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق معدنی وسائل کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کی مختلف ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں مزید مؤثر بنائیں گے جبکہ ضلع بھر میں چیکنگ اور نگرانی کے نظام کو بھی سخت کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی مائننگ کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
خبر نامہ نمبر 3803/2026
لورالائی06مئی:ـکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کی خصوصی ہدایات پر چیف آفیسر میونسپل کمیٹی لورالائی محیب اللہ خان بلوچ نے سلاٹر ہاؤس لورالائی کا تفصیلی دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران صفائی ستھرائی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں تاکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے موقع پر موجود عملے کو ہدایت کی کہ سلاٹر ہاؤس میں صفائی ستھرائی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور تمام انتظامات کو بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عیدالاضحیٰ کے ایام میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید برآں، بکرا منڈی (بکرا پیری) کے اطراف زمین کو ہموار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی تاکہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے عمل کو سہل، منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولیات کی فراہمی اور صحتِ عامہ کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں


Math Captcha
48 + = 49